ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں ایمبولینس روک کر موبائل ہیلتھ یونٹ کے ملازمین نے کیا احتجاجی مظاہرہ؛ تنخواہیں نہ ملنے کا شاخسانہ؛ اے ایس پی کو دیا گیا میمورنڈم

بھٹکل میں ایمبولینس روک کر موبائل ہیلتھ یونٹ کے ملازمین نے کیا احتجاجی مظاہرہ؛ تنخواہیں نہ ملنے کا شاخسانہ؛ اے ایس پی کو دیا گیا میمورنڈم

Sun, 05 Jan 2020 18:47:42    S.O. News Service

بھٹکل 5/جنوری(ایس او نیوز) موبائل ہیلتھ یونٹ کے ملازمین نے ہنگامی حالات میں خدمات انجام دینے والی ایمبولینس کو روک کر اپنی بقایا تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرین نے اس ضمن میں ایک میمورنڈم بھٹکل اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو سونپا۔ 

 یاد رہے کہ قبائلی علاقوں میں علاج و معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے کچھ عرصے پہلے ریاستی حکومت نے ضلع شمالی کینرا، جنوبی کینرا، ضلع اڈپی، شیموگہ اور چکمگلورو جیسے پانچ اضلاع میں موبائل ہیلتھ یونٹ شروع کیے تھے۔بھٹکل تعلقہ کوبھی ایک موبائل ایمبولینس فراہم کی گئی تھی۔اس میں ایک ڈاکٹر، ایک نرس، ایک ڈرائیور اور ان کے معاون تعینات کیے گئے تھے۔یہ پروگرام اگست 2018میں شروع کیا گیا تھا۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ(پی پی پی) اسکیم کے تحت حیدرآباد کی کریا ہیلتھ کیئر پرائیویٹ لمیٹیڈ کو اس کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔

 ٹھیکہ لینے والی کمپنی نے پریا نامی آسامی کو نامزدکرتے ہوئے اس کے ذریعے مختلف علاقوں میں ڈاکٹروں سمیت 50افراد پر مشتمل عملے کا تقرر کیا تھا۔ عملے کو چھ (۶) مہینے کی تربیت دینے کے بعد مستقل ملازمت دینے کی بات ٹھیکیدار کمپنی کی طرف سے کی گئی تھی۔ لیکن چھ مہینے گزرنے کے بعد ملازمت مستقل کرنے کے بجائے پروبیشنری خدمات جاری رکھنے کو کہا گیا۔اس پر سوال اٹھانے والوں کو نوکری سے نکال دینے کی دھمکیاں دی گئیں۔پریا کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہونے کی وجہ سے کمپنی نے فروری 2019میں اسے برخاست کردیا۔کرناٹکا میں بہتر کارکردگی انجام دینے میں ٹھیکیدار کمپنی ناکام رہی۔اس وجہ سے اگست 2019سے ریاستی حکومت نے کمپنی کے ٹھیکے کی تجدید نہیں کی۔

 اس پس منظر میں ٹھیکیدار کمپنی نے شکایت درج کرتے ہوئے اپنی ایمبولینس گاڑی واپس لے جانے کے لئے بنگلورو سے ڈرائیور ساتھ لے کر جب بھٹکل پہنچی تو پانچوں اضلاع سے تعلق رکھنے والے ملازمین یکجاہوگئے اور پہلے بھٹکل اے ایس پی نکھل سے ملاقات کی اور انہیں اپنی بقایاتنخواہوں کے بارے میں میمورنڈم دیا۔پھر ایمبولینس کے پاس کھڑے ہوکر احتجاج کیااور تنخواہ اداکیے بغیر گاڑی لے جانے سے روکے رکھا۔اے ایس پی نے مظاہرین کو اس معاملے میں ضروری کارروائی کرنے کا یقین دلایا۔

 اس دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایمبولینس کے ڈرائیور کو کمپنی کے ایک عہدیدار کی طرف سے دھمکی آمیز فون بھی آیا ہے جس کی آڈیو ریکارڈنگ کی گئی ہے۔ فون کرنے والے نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ بھٹکل سے ایمبولینس کس طرح واپس لے جانا وہ ہم جانتے ہیں۔ سیدھے طریقے سے ایمبولینس لے جانے دیا جائے ورنہ تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا۔بتایاجاتا ہے کہ جب بھٹکل پولیس نے اس نمبر پر فون کرکے پوچھ تاچھ کی تو اس شخص نے اس معاملے سے اپنا کوئی لینا دینا نہ ہونے کی بات کہی ہے۔


Share: